اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی اسپیکر نے شام کے بارے میں لوزان کانفرنس کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات کے لئے سب سے پہلے اس ناسور کی ثقافتی بنیادوں پر توجہ دینا ضروری ہے.
یہ بات 'علی لاریجانی' نے گزشتہ روز جمہوریہ چیک کے سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین 'پریمیسل سوبوٹکا ' کے ساته ایک ملاقات میں کہی.
اس موقع پر فریقین نے علاقائی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا.
علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کے اضافہ ہونے کی ذمہ دار ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے شام کے بحران کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تاہم عالمی طاقتیں اور ان کے علاقائی اتحادی ممالک نے اس مسئلے کو تسلیم نہیں کیا اور یہ لوزان میں حالیہ عالمی کانفرنس بهی انهی وجوہات کی بنا پر ناکام ہوئی.
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ عراقی شہر موصل کی ازادی کے ساته داعش دہشت گرد تنظیم عملی طور پر اس ملک سے بهاگ جائے گی.
اس موقع پر جمہوریہ چیک کے سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین نے کہا ہے ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کیساته تمام شعبوں بالخصوص پارلیمانی شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران اور چیک دہشت گردی سے مقابلے کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساته تعاون کرسکتے ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲